ساڑو یا سوزشِ حیوانہ کیا ہے ؟

 ساڑو یا سوزش حیوانہ کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ ڈیری فارمرز کے لیے سب سے بڑا معاشی نقصان ہے تو غلط نہ ہوگا۔

ایک اندازے کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک جانور ساڑو کا شکار ہوتا ہے
دنیا بھر میں ساڑو کا خطرہ جانور کو پورا سال لاحق رہتا ہے
⦁ ساڑو سے مکمل بچاؤ اگرچہ مشکل ضرور ہے، مگر باقاعدگی سے ہر چوائی کے وقت پری ملکنگ ٹیٹ ڈپنگ اور پوسٹ ملکنگ ٹیٹ ڈپنگ کا عمل دہرایا جائے تو ساڑو کے خطرات کو % 80 تک کم کیا جا سکتا ہے۔
⦁ پوشیدہ ساڑو کو بروقت سے کنٹرول کریں، اس سے پہلے کہ یہ ظاہری ساڑو کی شکل اختیار کر ے، اس کے لیے ضروری ہے کہ مستقل بنیادوںپرکیلیفورنیا میسٹائٹس ٹیسٹ باقاعدگی سے کئے جائیں

ساڑو یا سوزش حیوانہ دراصل مویشی کے تھن کی سوزش ہے، جس کے نتیجے میں دودھ کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ یہ ممکنہ طور پر حیوانہ کا انفیکشن ہے، جو دنیائے ڈیری میں بہت عام ہے۔
ساڑو کی عموماً دو قسمیں ہیں:
 ظاہری ساڑو
 پوشیدہ ساڑو
ظاہری ساڑو کی صورت میں حیوانہ/تھن پر سوجن یا حیوانہ گرم ہو جاتا ہے،
 حیوانہ اپنی اصل شکل سے کئی گنا بڑا ہو جاتا ہے۔

حیوانہ چھونے سے جانور کو درد محسوس ہوتاہے اور جانور کو  بخار ہوجاتا ہے۔

 دودھ میں پیپ، خون اور چھیچھڑے یا چھیڈیاں نمایاں ہو تی ہیں۔
پوشیدہ ساڑو کی علامات بھی پوشیدہ ہوتی ہیں اور یہ تھن میں ناڑ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
اس کے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ مستقل بنیادوں پرکیلیفورنیا ماسٹائٹس ٹیسٹ کیے جائیں
اس کے علاوہ دودھ میں سومیٹک سیلز خلیات کی تعداد مقررہ حد سے زیادہ ہونا اور دودھ کا ذائقہ نمکین ہونا بھی پوشیدہ ساڑو کی علامت ہے۔

وجوہات

جانوروں میں ساڑو کا سبب مختلف اقسام کے مائیکرو آرگنزم ہیں، جن میں مائکوپلازما، فنگس اور بیکٹیریاشامل ہے، جن کو مزید تفصیلا بیان کیا جا رہا ہے۔
وہ بیکٹیریل انفیکشن یا نباتاتی جراثیم جو ساڑو کا سبب بنتے ہیں، ان میں
 پاسچریلا ملٹوسیڈا
 سٹفیلوکوکس آریس
 اسٹرپٹوکوکس زویپدمکس
اسٹرپٹوکوکس ایگالیکشیا
اسٹرپٹوکوکس پائیوجینس
اینٹروکوککس فیکلس
مائکوبیکٹیریم بووس
 کلیبسیلا نمونیا
بروسیلا ابورٹس
سیوڈموناس پیوکینیئس
ایکولائی

 لیپٹوسپیرا پومونا۔
شامل ہیں۔
مختلف اقسام کی پھپھوندی یا فنگس مثلاً اسپرگلس فمی گیٹس, اے میڈیولس کنڈیڈہ ایس پی پی, ٹریچوسپورون ایس پی پی بھی ساڑو کے ذمہ دارسمجھے جاتے ہیں

علامات

⦁ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا عام علامات میں تھن یا حیوانہ سرخ، سخت اور گرم محسوس ہوتا ہے۔
⦁ چھونے پر جانور درد اور بے آرامی محسوس کرتا ہے، جانور کا جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔
⦁ متاثرہ تھن سے چوائی کرنے پر بدبو محسوس ہونا، گہرے رنگ کے مائع کا اخراج اور دودھ میں پھٹکیاں نمایاں ہوتی ہیں۔
⦁ ساڑو کی صورت میں دودھ کی پیداوار انتہائی کم یا مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
⦁ دیگر علامات میں بھوک کا نہ لگنا، تھن کے درد اور سوجن کے باعث جانور کی نقل و حرکت بھی محدود ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ ڈائریا، ہاضمے کی خرابی اور آنکھوں کا دھنس جانا شامل ہے۔
⦁ متاثرہ جانور پانی اور وزن کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے، شدید انفیکشن کی کی صورت میں جانور کے متاثرہ تھن سے پیپ یا پس بننے لگ جاتی ہے، ساڑو کی اس شدید صورت کو ”انگیاری” کہا جاتا ہے۔ساڑو انفیکشن شدید ہونے کے نتیجے میں ٹاکسیمیایا بیکٹیریاکی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں جانور کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
⦁ اگر کسی جانور میں یہ علامات ظاہر ہوں تو اسکے تھنوں اورحیوانہ کی سطح پر برف کی ٹکور کریں، ایسا کرنے سے سوجن اور درد میں کمی واقع ہوتی ہے۔

⦁ متاثرہ تھن سے دن میں تین مرتبہ چوائی کریں اور مکمل طور پر خالی کر دیں۔
⦁ متاثرہ جانور کا ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں اور ہدایات کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کا کورس کروائیں۔
درج ذیل چند احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے سے جانور کو کافی حد تک ساڑو کے حملے سے بچایا جا سکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

⦁ تمام احتیاطی تدابیر میں کیلیفورنیا ماسٹائٹس ٹیسٹ سرفہرست ہے، اسکی کٹ بازار میں با آسانی دستیاب ہے۔بعض فارمر حضرات اس ٹیسٹ کو سرف ملے پانی سے سر انجام دیتے ہیں مگر ویٹرنری ڈاکٹرز کے مطابق صحیح جانچ کے لیے بازار سے دستیاب تیار شدہ محلول لیا جائے۔
⦁ جانور کو بیٹھنے کے لیے صاف، خشک اور مناسب جگہ فراہم کریں۔
⦁ یقینی بنائیے کہ چوائی سے قبل تھن مکمل طور پر صاف اور خشک ہوں۔

⦁ چوائی کا درست طریقہ اپنائیں، انگوٹھا موڑ کر چوائی کے طریقے سے گریز کریں۔
⦁ جانور کے تھن میں کسی بھی قسم کی کوئی نوکدار شے داخل کرنے سے گریز کریں۔
⦁ چوائی کے بعد یقین دہانی کر لیں کہ دودھ تھنوں میں باقی نہ رہے۔
⦁ یقینی بنائیں کہ چوائی کرنے والے کے ہاتھ صاف اور دھلے ہوے ہوں، ہاتھ میں کوئی انگوٹھی یا چھلہ نہ ہو اور ناخن کٹے ہوئے ہوں۔
⦁ چوائی سے قبل اور بعد میں ٹیٹ ڈپنگ لازمی کریں۔

⦁ چوائی کے فوری بعد جانور کو چارہ کھلائیں تاکہ وہ بیٹھنے نہ پائے، چونکہ تھن کے منہ چوائی کے بعد کھلے ہوتے ہیں، اسطرح کرنے سے ماحولیاتی جراثیم تھن میں داخل نہ ہو ں، جانور کو کم از کم آدھا گھنٹہ کھڑا رکھیں۔
⦁ منہ کھر کی بیماری میں ساڑو کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، لہذا اس کو نظرانداز نہ کریں۔
⦁ چوائی کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ متاثرہ جانور کا دودھ آخر میں لیا جائے تاکہ انسانی ہاتھوں سے انفیکشن ٹرانسفر نہ ہو۔
⦁ ساڑو زدہ دودھ میں پانچ فیصد فینول کا مرکب شامل کر کے احتیاط کے ساتھ ضائع کر دیں۔
⦁ جانور میں غیر متوازن خوراک، نمکیات یا حیاتین کی کمی بھی ساڑو کا سبب بنتی ہے۔ جانور کو کبھی بھی خراب یا پھپھوندی لگی ہوئی خوراک نہ کھلائیں۔
ساڑو سے بچاؤ کے لیے بہت ضروری ہے کہ صفائی کا خاص خیال رکھا جائے، نہ صرف جانور بلکہ جانور کا خیال کرنے والے افراد اور اردگرد کا ماحول بھی صاف ہو، ورنہ کئی طرح کے جراثیم حملہ آور ہونے کو تیار ہوتے ہیں، مثلاً
⦁ ماحولیاتی جراثیم: یہ اردگرد کی چیزوں پر ہو سکتے ہیں، مثلاً گوبر، کیچڑ اور پرالی وغیرہ، یہ جراثیم تھن کے سوراخوں سے داخل ہو کر ساڑو کا خطرہ بنتے ہیں۔
⦁ موقع پرست جراثیم: عام طور پر اگر چوائی کرنے والے کے ہاتھ صاف نہ ہو تو بیماری لگنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
⦁ چھونے والے جراثیم: اگر کسی بھی وجہ سے تھن پر کوئی کٹ یا زخم لگا ہو، تو جراثیم تھن میں داخل ہو سکتے ہیں۔
⦁ اس کے علاوہ جانور کو پہنچنے والا کوئی بھی جسمانی نقصان یا صدمہ بھی ساڑو کا سبب بنتا ہے۔
⦁ فارم کی روزانہ دھلائی اور صفائی کے دوران جراثیم کش ادویات کے باقاعدہ استعمال سے ماحولیاتی جراثیم پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

چند اہم نکات

⦁ ” ایم ایس ڈی ویٹرنری دستی” کے مطابق تندرست جانور کے دودھ میں سومیٹک سیلز   خلیات کی تعدادہوتی ہے۔اگر مویشی میں یہ تعداد مقررہ حد سے تجاوز کر رہی ہوں، تو یہ انفیکشن کی صورت ہو سکتی ہے۔

⦁ اگرچہ ساڑو کی جانچ کا درست نتیجہ بازار سے دستیاب تیار شدہ محلول سے ہی حاصل ہوتا ہے، مگر اس کو فوری جانچ کے لیے دیسی طریقہ بھی بیان کیا جا رہا ہے، اس کے لیے چند اشیاء کی ضرورت ہوگی،
⦁ تیس گرام سرف پاوڈر
⦁ ایک لیٹر پانی
اس عمل کے لیے سب سے پہلے سرف کو پانی میں اچھی طرح حل کرلیں، جانور کے کسی ایک تھن سے تھوڑی سی مقدار میں دودھ نکالیں اور برابر مقدار میں سرف ملا پانی شامل کریں، اس کو اچھی طرح ہلائیں، اگر دودھ کی رنگت اور شکل میں تبدیلی نمایاں ہو تو یہ ساڑو کی علامت ہے ، مزید یقینی بنانے کے لیے دودھ کو صاف اور کچی زمین پر ڈالیں، اگرچھیڈیاں نظر آئیں تو یہ ساڑو کی علامت ہے ، اسی طرح ہر تھن سے الگ الگ صاف پیالی دودھ میں  جانچ کریں۔
⦁ مندرجہ بالا بیان کیے گئے وائرس کے علاوہ بہت سے ایسے ہیں، جو ساڑو کی بیماری کادوسرا سبب بن سکتے ہیں،
اپنے جانور کی صحت اور خوراک کا خیال رکھیں، کیونکہ صحتمند جانور سے صحتمند معاشرہ ہے۔
مزید معلومات اور رہنمائی کیلئے ڈیری لیک کسٹمر کیئر  03367725000سے رابطہ کریں